نئی دہلی،29اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ٹاٹا اور ڈوکومو کمپنی کے درمیان ہوئے معاہدے کو لے کر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مداخلت کی درخواست دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔ دراصل آر بی آئی نے 1.17 ارب ڈالر کے نقصان کے معاملے میں جاپانی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی این ٹی ٹی ڈوکومو اور ٹاٹا سنز کے درمیان ہوئے معاہدے کو قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربٹریشن میں ہوئے معاہدے کو لے کر ڈوکومو کے حق میں دئے گئے معاوضہ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ آر بی آئی کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ دراصل، ڈوکومو اور ٹاٹا ثالثی کے لئے ایل سی آئی اے میں چلے گئے تھے، کیونکہ ہندوستانی کمپنی کواپنے مشترکہ ٹاٹا ٹیلی سروسیز لمیٹڈ (ٹی ٹی ایس ایل) میں جاپانی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے 26.5 فیصد شیئر کے لئے خریدار نہیں مل پایا تھا۔اسٹاک ہولڈنگ میں ہوئے اس معاہدے کے تحت پانچ سال کے اندر ڈوکومو کے کاروبار سے باہر نکلنے پر ٹاٹا کو خریدار تلاش کرنا تھا جو حصول قیمت کے کم از کم 50 فیصد حصے پر جاپانی کمپنی کی حصہ داری خرید لے۔ فی شیئر یہ 58.45 روپے تھے۔دوسرا آپشن جو دونوں کمپنیوں کے درمیان معاہدے میں ہوا، اس کے مطابق ٹاٹا مناسب مارکیٹ کی قیمت پر حصص خریدتا، جوکہ فی شیئر 23.44 روپے تھے۔
ڈوکومو نے اسے قبول نہیں کیا اور اس نے ثالثی کو اختیار کیا تھا۔ جون 2016 میں ایل سی آئی نے اسٹاک ہولڈنگ معاہدے کے مطابق خریدار تلاش کرنے کے لئے ٹاٹا کی نااتفاقی کے لئے ڈوکومو کے حق میں 1.17 ارب ڈالر معاوضہ دینے کا فیصلہ سنایا، لیکن آر بی آئی نے ٹاٹا کو ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کے بعد پھر ڈوکومو نے اس رقم کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جس پر آر بی آئی نے مداخلت عرضی دائر کی۔ آر بی آئی نے عرضی میں اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹاک ہولڈر کا معاہدہ غیر قانونی تھا اور نقصان کے طور پر ادائیگی پر اسے اعتراض ہے۔ اسی عرضی کا نمٹا راکرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ 15 مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔